پاکستان کا تعلیمی نظام اور دور حاضر کی ضرورت
8 مارچ 2020
آج کا موضوع
آج کا موضوع
پاکستان کا تعلیمی نظام اور دور حاضر کی ضرورت
محترم ہموطنوں، السّلام و علیکم
کچھ دن پہلے آزاد چائے والا
کا خلاف خبر لگی ، جس کے بعد وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے
انھوں نے پاکستان کے تعلیمی نظام کو نشانہ بنایا اور پھر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ڈگری حاصل کرنے سے کچھ نہیں صرف
بیروزگاری بڑھتی ہے۔ اس مسئلے پر تو ویسے پوری دنیا ہی شور مچارہی ہے لیکن سمجھ
کچھ نہیں آرہی۔خیر بعدازاں چائے والا نے اپنے
تکنیکی تربیت کے مراکز کھولے جن بہت مہنگی تربیت دی جانے لگی ، کچھ سوشل
میڈیا کے باذوق نواجوانوں نے ان پر تنقید بھی کی۔لیکن اصل میں مسئلہ کیا ہے، کیوں
تعلیمی نظام پر انگلیا ں اٹھ رہی ہے۔ میں ساری دنیا کا تحقیقی جائزہ نہیں کرپاؤں
گا، البتہ پاکستان کی حد ضرور ، اور بھارت، بنگلہ دیش کا مسئلہ بھی ہم سے ملتا
جلتا ہے تو ان باری میں بھی آگاہی اس مضمون سے ممکن ہوجائے گی۔مندرجہ بالا
عبارتیں اگر آپ پڑھ پائے ہیں تو اس میں آپ
خالق حقیقی کا شکرگزار ہونا چاہیے جنہوں نے آپکی تعلیم میں پیسے خرچ کرنے والے
والدین دیے اور پھر ان اساتذہ کا جنہوں
پڑھنا لکھنا سکھایا۔
پاکستان کا تعلیمی نظام بہت پرانا ہے
، سن 47 سے ہی یہاں مختلف تعلیمی نصاب موجود تھے، مثلا ً محلہ کی مساجد میں قرآن کی تعلیم، پھر مذہبی
مدرسہ یا اسکول، مدرسہ میں 14 ، 15 سال لگال کر ایک مفتی ، دینی مفکّر ، اور مذہبی
تعلیم دینے والے پیدا ہورہے تھے جو آج کا فی بہتر ہورہے ہیں۔ اسکے اسکول ان کی بھی
دو قسمیں تھیں، سرکاری اور غیرسرکاری۔ سرکاری میں بنیادی ، اور پھر نہم دہم سے
تکنیکی اسکول بھی معرض وجود میں آئے جیسے ووکیشنل ٹریننگ، پولی ٹیکنیک وغیرہ۔ اس
کےبعد سرکاری کالج اور یونیورسٹی ، علمی اور فنی مہارت حاصل کرنے ادارے کچھ موجود
تھے باقی وقت کے ساتھ بنتے گئے۔ اس کے بعد غیر سرکاری کی بات کرتے ہیں۔ جس میں بچپن سے امراء کے بچے ذیر تعلیم ہوتے تھے۔
پاکستا ن میں نمایا ں نام، انگلش میڈیم اسکول کے لیبل والے ادارے ۔ خیر ان میں جو
پہلے سے موجود تھے ان میں مریم کونوینٹ، ایچیسن چیف کالج، وغیرہ، پھر ان کے بعد
ہماری پاک فوج نے بھی تعلیمی نظام میں ہاتھ بٹایا
اور پٹاروکے بعد کیڈٹ کالج اور
بورڈنگ اسکول مختلف مقامات پر قائم کیے۔آج کل جن میں آرمی پبلک اسکول، رینجرز
اسکول وغیرہ شامل ہیں۔ ساتھ ہی مغربی دنیا سے بھی امداد لی گئی ، جیسے بیکن ہاؤس
کا تعلیمی نظام، ایجوکیٹر اسکول کے نام
پورے ملک میں فعال، اس کے ساتھ ہی کیمبرج
کا تعلیمی نظام بھی ہے، پھر ملک ریاض کی بحریہ اسکول سے یونیورسٹی ہے، اسی طرح کئی لوگوں نے
اپنے اپنے طور پر بہت سے تعلیمی ادارے قائم کیئے اور ان سب نے ملکر صرف پاکستان کو
بیروزگار دیئے ہیں، آبادی اتنی زیادہ ہے کہ اساتذہ کی قلّت ہی رہتی ہے، اور مہنگی
بھی تعلیم اتنی ہے کہ اس قوم کی 80٪
اولادیں یاسرکاری اسکولوں میں وقت
ذائع کر رہی ہے یا غیر معیاری تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ اب بات کرتے ہیں کہ حل کیا
ہے۔
· تعلیم کا بجٹ ٹھیک کریں
· آئی ایس آئی کی طرح ایک تعلیم کے
نظام کے لئے بھی ادارہ ہونا چاہیے جو سزا بھی دے ملک مستقبل کو خراب کرنے والوں
کو۔
· کالج اور یونیورسٹی میں سیاسی سرگرمیاں اور مذہبی
اجتماع دونو ں پر پابندی ہو نی چاہیے اور شاگر د ، طلبا و طالبات کسی مذہبی ،
سیاسی پارٹی کا حصّہ بنے اس پارٹی کو جرمانہ
کریں کہ وہ ہماری ترقّی کے دشمن ہیں اور غداری کا حقیقی مقدّمہ ان پر چلنا چاہیے۔
· ہمارے وکلاء، ڈاکٹر ، انجینئر، مذہبی رہنما ، مساجد کے
پیش امام کا لائسنس ہونا چاہیے اور علمی غلطی کرنی پر جرمانہ بھی ہونا چاہیے تاکہ
ہمیشہ معیاری اور مستند چیز ہی عوام تک
پہنچے اور غیر معیاری لوگ ان حساس شعبہ جات سے دور رہیں۔
· غیر ملکی نصاب بند ہونا چاہیے،
ہمارے ہاں بہترین نصاب ہمارے ہی لوگ بنا سکتے ہیں ، جو ان کے اپنے
بچوں کیلئے اور پاکستانیوں کے لئے ہوگا۔
· چائلڈ لیبر کا خاتمہ ضروری ہے۔
اور وہ والدین جن کے پاس روزگار نہیں یا
اپنے بچوں کو مزدوری کروانے پر مجبور ہیں ان فلاح کیلئے کچھ کریں اس پہلے کہ وہ
بھیک مانگنے پر مجبور ہوجائیں ، ورنہ اسلام میں گداگری کی مزمّت جیسے
مضامین نصاب سے خارج کریں
· جو لوگ تعلیم دینے کا شوق رکھتے ہیں ان کو آگے لائیں،
ان بے روزگاروں کو نہیں جن کو کوئي کام نہ ملے تو بے روزگاری کی تعلیم دینے کسی بھی غیر سرکاری
اسکول میں بھرتی ہوجاتے ہیں۔
· جس ڈگری پر روزگار کے مواقع نہیں ہیں اس کو بند کردینا چاہیے، جیسے کمپوٹر سائنس، پٹرولیم،
سول انجنئیرنگ وغیرہ ۔کیونکہ تعمیراتی
ٹھیکہ چین کو ملتے ہیں، پٹرولیم سعودیہ کی
ہے، کمپیوٹر کے مسائل آسٹریلیا، امریکہ وغیرہ کے لوگ حل کرتے اور ہمارے بچے یہ
ڈگریا ں لیکر برگر اور بریانی بیچتے ہیں تو فائدہ کیا ہے۔
· اور اگر ضد ہی ہے کہ ایسے شعبہ جات کی تعلیم دن ہے جن
سے روزگار نہیں ملنا تو اس شعبہ پر ڈگری
کرنے والوں کے اخراجات حکومت ہی اٹھائے، غریب والدین کے گاڑھے پسینے کی کمائی ذائع
نہ کی جائے۔
· پاکستا ن میں ملازمت کے قانون فعل کئے جائیں اور قانون شناسی عوام تک پہچائی جائے، اب تک ڈپلومہ اور ڈگری کا فرق ہی واضح نہیں ہے،
ایک یونیورسٹی کا انجینئرمجبور ہوکر 10 ہزار پر کام کرتا ہے اور پولی ٹیکنیک والا ڈپلومہ ہولڈر اس سے یہ کام بھی 5000 ماہوار پر چھین لیتا ہے
کیونکہ حکومت سورہی ہے 70 سال سے۔
· تعلیمی نظام ایک مرکزی وفاقی ادرے کے زیر نگرانی چلنا
چاہیے نا کہ ، ہر ایک ڈیڑھ انچ کی اپنی ہی مسجد ہو۔یہاں وفاقی ادارہ الگ ، صوبائی الگ، مغربی اسکول الگ،
مذہبی ادارے الگ ، اللہ معاف کرے پر کرے گا نہیں۔
· تمام سرکاری، نیم سرکاری، صوبائی ، وفاقی،غیر سرکاری،
کیڈٹ کالج ، بورڈنگ اسکول، آرمی پبلک اسکول وغیرہ، سب کا ایک نصاب ہونا چاہیے ۔
· دینی مدارس میں روزگار کیلئے تعلیم ضروری ہے، تاکہ
کمزور ایمان والے مذہب کو کمانے کا ذریعہ
نہ بنائیں۔
· تمام تعلیمی مراکز میں بنیادی مذہبی تعلیم تمام
مسلمانوں کو ہنگامی بنیادوں پر دینی جس میں نماز پڑھنا سے پڑھانا، جنازہ پڑھانا،
کفن سینا، غسل میت اور نکاح پڑھانے کی تعلیم، بالغ ہونے تک مکمل ہوجانی چاہیے ،
یعنی بارہویں جمات اس تعلیم کے بغیر پاس نہ ہوسکے ایسا قانون ہوناچاہیے۔
· حکمراں سے لیکر سرکاری ملازم تک سب کے بچے سرکاری اداروںمیں تعلیم حاصل کر یں گے ، اگر اعتراض
ہو تو
عہدے سے برخاست کردیا جائے۔
اس ملک نے شہداء کی ہمیشہ عزّت کی
ہے، خواہ وہ فوجی ہو یا معصوم بچہ، یا بم دھماکے میں ہلاک ہونے مظلوم عوام، لیکن شہید سے زیادہ
افضل ایک عالم کے قلم کی سیاحی ہے، پر علم
ہی نایاب ہے تو عالم کہاں سے آئے گا۔
امید یہ مضمون آپ کو پسند آئے جبکہ
سب وہی ہے جو آپ پہلے سے جانتے ہیں، کچھ نیا نہیں۔
آپ
کے جو کا مغتظر رہوں گا تاکہ آگے بھی لکھنے کی وجہ ملتی رہیں ورنہ یونہی مجھے
دیوار میں سرپٹکنے کا شوق نہیں ہیں
Comments